غزل | غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی خوب صورت غزل

غزل

کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
غزل

کچھ دھواں تھا، کچھ اضطراب آیا
پھر ترے شہر کا سراب آیا

رات شیشے میں ڈھل گئی جیسے
چاند ہاتھوں میں بے حجاب آیا

تیری آواز کی نمی لے کر
دل کے صحرا میں پھر گلاب آیا

جسم تنہائیوں کا عادی تھا
پھر تری یاد کا عذاب آیا

برطرف آئینہ خواب سمجھے
پھر بھی چہرہ نہ کامیاب آیا

ہم نے لفظوں میں آگ بھر ڈالی
تب کہیں شعر میں شباب آیا

شہر والوں نے ہم کو کیا سمجھا
جب بھی سچ بولنے کا باب آیا

وقت کی دھوپ کھا کے لوٹے ہیں
تب ہمارے لہو میں تاب آیا

ایک خاموش چیخ تھی دل میں
اور دنیا کو انقلاب آیا

وہ جو بکھرا تو رنگ بن بن کر
وہ جو ابھرا تو آفتاب آیا

دل نے ہر زخم کو جگہ دی ہے
یوں ہمیں عشق کا خطاب آیا

ہم پہ پتھر اچھالنے ہی رہے
پھر بھی لب پر نہ اضطراب آیا

عصرِ حاضر کی تیرگی میں عطاؔ
تیرا لہجہ لیے گلاب آیا

صاحبِ کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post