منقبتِ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ
کلام: غلام مزمل عطاؔ اشرفی
حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں پیش کی گئی یہ
منقبتِ عقیدت و محبت، نسبِ پاک، سخاوت، سیرت، صبر، حلم اور صلحِ
امام حسن رضی اللہ عنہ کے عظیم کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
شاعر نے محبت و احترام کے جذبات کو سادہ اور رواں شعری پیرایے میں
بیان کیا ہے۔
منقبت
ہر زباں پر ہے نام امام حسن
پڑھ رہا ہوں سلام امام حسن
پشتِ آقا پہ ہیں سوار حسن
اللہ اللہ مقام امام حسن
ابنِ مولا علی و ابنِ بتول
فخرِ خیرُالانام امام حسن
آپ گل گلشنِ حبیبِ خدا
رشکِ عنبر مشام امام حسن
آپ کی ذات ہے سخا کا چمن
رحمتوں کا ہے جام امام حسن
آپ کی سیرتیں ورق پہ ورق
نور کا ہے پیام امام حسن
حکمتِ مصطفیٰ تھی تیری صلح
بن گئی خیرِ عام امام حسن
زہر پی کر نہ لب پہ شکوہ رہا
صبر کا ہے مقام امام حسن
دل مہکتا ہے ذکر سے یہ ترے
جیسے گل کی مشام امام حسن
خاکِ قدموں کی تیرے سرمہ مرا
ہے یہی میرا جام امام حسن
آپ کے در کا یہ عطاؔ بھی شہا
کاش ہو نیک نام امام حسن
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

Post a Comment