غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں
نور ہی نور تھا اُن کے رخسار پر
چاند شرما گیا اُن کے دیدار پر
زلف لہرا دیا دن میں شب ہو گئی
میں فدا ہو گیا گیسوئے یار پر
اُن کی آنکھوں میں ایسا عجب بانکپن
دل مچلنے لگا پہلی ہی وار پر
اُن کی خوشبو سے مہکی ہوئی ہر فضا
گل نچھاور ہوئے کوچۂ یار پر
لب ہلائے تو کلیوں نے سر خم کیے
پھول قربان تھے اُن کی گفتار پر
اُن کے چلنے سے مقتل میں جاں آ گئی
موت بھی ہنس پڑی اُن کی رفتار پر
رُخ سے پردہ ہٹایا ہے اُس نے عطاؔ
صبح اُتری ہوئی ہے شبِ تار پر
تجھے سوچ کر کتنے ادراک ہوئے
مرے بند ذہنوں پہ افلاک ہوئے
ندیدہ سبھی رازِ دل چاک ہوئے
دیا دل تجھے، اتنے بے باک ہوئے
تری زلف کھولی تو شب چاک ہوئے
مرے صبر کے حوصلے خاک ہوئے
تری زلف لہری تو شب مسکرائی
ستارے بھی لمحوں میں نم ناک ہوئے
لبوں پر ترے جب تبسم کھلا ہے
گلوں کے بھی انداز سفّاک ہوئے
کبھی حرف سچ کے جو لکھنے لگے ہم
ہمارے ہی لہجے غضب ناک ہوئے
وہی لوگ تاریخ لکھنے لگے ہیں
جو کردار کے باب میں خاک ہوئے
عطاؔ شہرِ انصاف کا یہ چلن ہے
کہ قاتل بھی منصف کے پوشاک ہوئے

Post a Comment