غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں | محبت، وفا اور حق گوئی

غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں

محبت، وفا، ضبط، خودداری اور حق گوئی کے احساسات
پیشِ نظر غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی دو منتخب غزلیں ہیں۔ ان اشعار میں محبت کی خاموشی، ہجر کا کرب، رشتوں کی نزاکت، وفا، ضبطِ غم، خودداری اور حق گوئی جیسے مختلف جذبات کو شعری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر نے ذاتی احساسات کو سماجی تجربات کے ساتھ جوڑتے ہوئے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کی ترجمانی کی ہے۔
غزل اوّل

دنیا سے عمر بھر یہ چھپانا پڑا مجھے
دریائے غم کو دل میں بہانا پڑا مجھے

وہ سامنے تھا پھر بھی نہ اظہار ہو سکا
نظروں سے مدعا ہی بتانا پڑا مجھے

آنکھوں نے سب کہانی سنائی تھی وصل کی
لب کو مگر سکوت سکھانا پڑا مجھے

وہ روٹھ کر بھی دل سے جدا کب ہوا مرے
ہر بار اُس کو ہنس کے منانا پڑا مجھے

اک اس کے بعد شہر میں اپنا نہ تھا کوئی
ہر اجنبی کو دوست بنانا پڑا مجھے

ترکِ تعلقات کا جب فیصلہ ہوا
آنکھوں کو ضبطِ غم بھی سکھانا پڑا مجھے

دشمن سے کیا گلہ کہ وہ دشمن ہی تھا عطاؔ
اپنوں کا ہر ستم بھی اٹھانا پڑا مجھے

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
غزل دوم

دل کا چراغ خود ہی جلانا پڑا مجھے
ہنس ہنس کے غم کو اپنے چھپانا پڑا مجھے

جب ظلم حد سے آگے بڑھانے لگا قدم
خامہ بنا کے تیغ چلانا پڑا مجھے

آخر وہ اپنی بات پہ قائم نہ رہ سکا
سو عہدِ عشق تنہا نبھانا پڑا مجھے

دنیا نے میری ذات پہ کیچڑ اچھال دی
کردار آئینے سا دکھانا پڑا مجھے

نفرت کی آگ پھیل گئی چار سو جبھی
الفت کا پھول پھر سے کھلانا پڑا مجھے

حق بات کی سزا بھی زمانے نے خوب دی
الزامِ ناروا بھی اٹھانا پڑا مجھے

مطلب وفا کا مجھکو بتانا پڑا عطا
وعدہ کیا تھا ان سے نبھانا پڑا مجھے

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post